بنگلورو،17؍مارچ(ایس او نیوز)انتخابات کے متعلق ہندوستانی عوام میں اب بھی وہ بیداری نہیں ہے جو ہونی چاہئے تھی۔ ووٹنگ کے لزوم اور فرضی ووٹنگ کو روکنے کیلئے اسے قابل سزا جرم نہیں بنایا جاتااس وقت تک انتخابی اصلاحات کا مقصد حاصل نہیں ہوپائے گا ، ان خیالات کا اظہار سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے کیا۔آج شہر میں کومو سوہاردا ویدیکے کی جانب سے انتخابی اصلاحات کے متعلق ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک کے موجودہ حالات میں پیسہ اور شراب کی تقسیم اور خون خرابے سے پاک انتخابات کا تصور ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے لوک سبھا انتخابات میں ملک کے کروڑوں ووٹروں نے اپنا ووٹ ہی نہیں دیا۔ ان لوگوں میں انتخابات اور حق رائے دہی کی اہمیت کو اجاگر کرناضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لازمی ووٹنگ کی تجویز مرکزی حکومت کے پاس پچھلے 25,20 سال سے سرد خانے میں پڑی ہوئی ہے۔ لیکن اب تک کسی بھی حکومت نے اس مطالبے کو قانونی شکل دینے کی ٹھوس پہل نہیں کی، اس کیلئے ضروری ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ حکومتوں کو ہدایت دی جائے کہ ووٹنگ کو لازمی قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہر پولنگ بوتھ ایک عبادتگاہ کی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس پولنگ بوتھ کے ذریعہ لوگ پانچ سال کیلئے اپنا نمائندہ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس لئے انتخابی اصلاحات کے نظام کے تحت ضروری ہے کہ انتخابی اصلاح کو قابو میں کیا جائے۔ شہریوں میں یہ احساس بیدار کیا جائے کہ اگر کوئی خامی دیکھ رہے ہیں تو وہ اس کے خلاف شکایت کریں۔ انہوں نے کہاکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے متعلق بھلے ہی مختلف حلقوں میں شبہ کی نظر سے دیکھاجارہاہے ، لیکن ان مشینوں سے ہم آہنگ وی وی پیاڈ نظام کے ذریعہ ووٹر نے کسے ووٹ دیا ہے اس کاپتہ چل جاتاہے۔ انتخابات کے ایام میں پیڈ نیوز کے رجحان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے مسٹر ایس وائی قریشی نے کہاکہ اس پر روک لگانے کی ضرورت ہے۔ سابق اڈوکیٹ جنرل پروفیسر روی ورما کمار نے کہاکہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات یقینی بنانے میں الیکشن کمیشن بے سہارا ہوچکا ہے، کھلے عام ووٹروں کو رشوت دی جاتی ہے۔ اس پر روک لگانے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ترقی یافتہ ممالک میں ووٹنگ ہر شہری کیلئے لازمی قرار دی گئی ہے۔ ملک میں ووٹنگ کو لازمی قرارنہ دئے جانے کے سبب کئی مسائل اور سیاسی عدم مساوات عام ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذات پات ، زبان اور دیگر امور کو بنیاد بناکر انتخابات لڑنے سے ماحول میں جو بگاڑ پیدا ہورہا ہے اس کو قابو میں کرنے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ کے وظیفہ یاب چیف جسٹس این وینکٹ چلیا نے اس سمینار کی صدارت کی۔ اس موقع پر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ کے پروفیسر ترولوچند شاستری اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔